اب تک علاج رنجش بے جا نہ کر سکے

ابو محمد سحر

اب تک علاج رنجش بے جا نہ کر سکے

ابو محمد سحر

MORE BY ابو محمد سحر

    اب تک علاج رنجش بے جا نہ کر سکے

    اک عمر میں بھی حسن کو اپنا نہ کر سکے

    تھی ایک رسم عشق سو ہم نے بھی کی ادا

    دنیا میں کوئی کام انوکھا نہ کر سکے

    کل رات دل کے ساتھ بجھے اس طرح چراغ

    یادوں کے سلسلے بھی اجالا نہ کر سکے

    اب اس سے کیا غرض ہے کہ انجام کیا ہوا

    یہ تو نہیں کہ تیری تمنا نہ کر سکے

    خود عشق ہی کو دے گئے رسوائیوں کے داغ

    وہ راز حسن ہم جنہیں افشا نہ کر سکے

    ذوق جنوں کو راس نہیں تنگ بستیاں

    صحرا نہ ہو تو کیا کوئی دیوانہ کر سکے

    ہر امتیاز اس کے لیے ہیچ ہے سحرؔ

    جو اپنی زندگی کو تماشا نہ کر سکے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY