اب تک جو جی چکا ہوں جنم گن رہا ہوں میں

سرفراز آرش

اب تک جو جی چکا ہوں جنم گن رہا ہوں میں

سرفراز آرش

MORE BYسرفراز آرش

    اب تک جو جی چکا ہوں جنم گن رہا ہوں میں

    دنیا سمجھ رہی ہے کہ غم گن رہا ہوں میں

    متروک راستے میں لگا سنگ میل ہوں

    بھٹکے ہوئے کے سیدھے قدم گن رہا ہوں میں

    ٹیبل سے گر کے رات کو ٹوٹا ہے اک گلاس

    بتی جلا کے اپنی رقم گن رہا ہوں میں

    تعداد جاننا ہے کہ کتنے مرے ہیں آج

    جو چل نہیں سکے ہیں وہ بم گن رہا ہوں میں

    میں سنتری ہوں عورتوں کی جیل کا حضور

    دو چار قیدی اس لیے کم گن رہا ہوں میں

    آرشؔ صراحی دار سی گردن کے سحر میں

    زمزم سی گفتگو کو بھی رم گن رہا ہوں میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY