اب تری یاد سے وحشت نہیں ہوتی مجھ کو

شاہد ذکی

اب تری یاد سے وحشت نہیں ہوتی مجھ کو

شاہد ذکی

MORE BYشاہد ذکی

    اب تری یاد سے وحشت نہیں ہوتی مجھ کو

    زخم کھلتے ہیں اذیت نہیں ہوتی مجھ کو

    اب کوئی آئے چلا جائے میں خوش رہتا ہوں

    اب کسی شخص کی عادت نہیں ہوتی مجھ کو

    ایسا بدلا ہوں ترے شہر کا پانی پی کر

    جھوٹ بولوں تو ندامت نہیں ہوتی مجھ کو

    ہے امانت میں خیانت سو کسی کی خاطر

    کوئی مرتا ہے تو حیرت نہیں ہوتی مجھ کو

    تو جو بدلے تری تصویر بدل جاتی ہے

    رنگ بھرنے میں سہولت نہیں ہوتی مجھ کو

    اکثر اوقات میں تعبیر بتا دیتا ہوں

    بعض اوقات اجازت نہیں ہوتی مجھ کو

    اتنا مصروف ہوں جینے کی ہوس میں شاہدؔ

    سانس لینے کی بھی فرصت نہیں ہوتی مجھ کو

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY