اب تو اشکوں کی روانی میں نہ رکھی جائے

فاضل جمیلی

اب تو اشکوں کی روانی میں نہ رکھی جائے

فاضل جمیلی

MORE BYفاضل جمیلی

    اب تو اشکوں کی روانی میں نہ رکھی جائے

    اس کی تصویر ہے پانی میں نہ رکھی جائے

    ایک ہی دل میں ٹھہر جائیں ہمیشہ کے لئے

    زندگی نقل مکانی میں نہ رکھی جائے

    زندہ رکھنا ہو محبت میں جو کردار مرا

    ساعت وصل کہانی میں نہ رکھی جائے

    یوں تو ملتے ہیں سبھی لوگ بچھڑنے کے لئے

    ناگہانی یہ جوانی میں نہ رکھی جائے

    بھول جانا ہے تو اے دوست بھلا دے مجھ کو

    یاد اب یاد دہانی میں نہ رکھی جائے

    جب کوئی ایک کشش کھینچ رہی ہے ہم کو

    کیمیا فلسفہ دانی میں نہ رکھی جائے

    دل بھی تھوڑا سا سبک دوش تمنا کر دے

    کچھ طبیعت بھی گرانی میں نہ رکھی جائے

    مأخذ :
    • کتاب : Gumname aadmi ka bayan (Pg. 130)
    • Author : Fazil Jamili
    • مطبع : Bazm-e-ifkar Publications (2017)
    • اشاعت : 2017

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY