اب تو اک عمر ہوئی یاد نہ کر لوں خود کو

شارق جمال

اب تو اک عمر ہوئی یاد نہ کر لوں خود کو

شارق جمال

MORE BYشارق جمال

    اب تو اک عمر ہوئی یاد نہ کر لوں خود کو

    ہوں کہیں ذہن میں ایجاد نہ کر لوں خود کو

    وہ خرابہ کہ جہاں کوئی نہ ہو میرے سوا

    اس خرابے میں ہی آباد نہ کر لوں خود کو

    جانے کس لمحۂ پر درد کی یاد آئی ہے

    روتے روتے یوں ہی برباد نہ کر لوں خود کو

    وہی تنہائی کا عالم وہی صیاد کا خوف

    اپنا زنداں ہوں تو آزاد نہ کر لوں خود کو

    حشر کے بعد بھی رہنا ہے زمیں پر مجھ کو

    میں جہاں زاد زمیں زاد نہ کر لوں خود کو

    یہ جو کھینچے لیے جاتا ہے بیاباں کی طرف

    دل کو خدشہ ہے کہ آباد نہ کر لوں خود کو

    مل ہی جاؤں گا گئے وقت میں اک دن شارقؔ

    لوح امکان پہ ایزاد نہ کر لوں خود کو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے