اب وفا رنگ تماشا کوئی چہرہ نہ رہا

اقبال اشہر قریشی

اب وفا رنگ تماشا کوئی چہرہ نہ رہا

اقبال اشہر قریشی

MORE BYاقبال اشہر قریشی

    اب وفا رنگ تماشا کوئی چہرہ نہ رہا

    اپنی آنکھوں کی چمک پر بھی بھروسا نہ رہا

    ہم تو آئے تھے ملاقات کریں گے تجھ سے

    یہ خبر کب تھی کہ تو اپنے ہی جیسا نہ رہا

    لوگ کہتے ہیں کہ ہر چیز سمجھتی ہے ہمیں

    میں بہت خوش ہوں کہ اب کوئی ادھورا نہ رہا

    اس کے ملنے کی خوشی اس کے بچھڑنے کا قلق

    ایک گردش تھی کہ وہ آ گیا ٹھہرا نہ رہا

    اس نے کاغذ کو بھی پھولوں کی طرح چوم لیا

    پیش خوشبو ہی کریں دوسرا تحفہ نہ رہا

    مأخذ :
    • کتاب : Be Sada Faryaad (Ghazals) (Pg. 72)
    • Author : Iqbal Ashhar Qureshi
    • مطبع : Fine Art Group Publications (2012)
    • اشاعت : 2012

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY