عبث ڈھونڈا کئے ہم ناخداؤں کو سفینوں میں

عبدالرحمان بزمی

عبث ڈھونڈا کئے ہم ناخداؤں کو سفینوں میں

عبدالرحمان بزمی

MORE BY عبدالرحمان بزمی

    عبث ڈھونڈا کئے ہم ناخداؤں کو سفینوں میں

    وہ تھے آسودۂ ساحل ملے ساحل نشینوں میں

    وہ اوروں کے بتوں کو توڑنے والوں کو دیکھو تو

    چھپائے پھرتے ہیں اپنے بتوں کو آستینوں میں

    ہماری بیکسی اور ناتوانی کا خدا حافظ

    کہ تلواریں ہیں پنہاں رہبروں کی آستینوں میں

    چھلک جاتی ہے اشک گرم بن کر میری آنکھوں سے

    ٹھہرتی ہی نہیں صہبائے درد ان آبگینوں میں

    مرے اشعار ہیں آئینۂ سوز دروں بزمیؔ

    جھلکتا ہے مرا خون جگر ان آبگینوں میں

    مآخذ:

    • کتاب : Shora-e-London (Pg. 46)
    • Author : Jauhar Zahiri
    • مطبع : Books From India (U.K) Ltd. 45, Museum Street, Londan W.C-1 (1985)
    • اشاعت : 1985

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY