عبث ہے ناز استغنا پہ کل کی کیا خبر کیا ہو

نظم طبا طبائی

عبث ہے ناز استغنا پہ کل کی کیا خبر کیا ہو

نظم طبا طبائی

MORE BYنظم طبا طبائی

    عبث ہے ناز استغنا پہ کل کی کیا خبر کیا ہو

    خدا معلوم یہ سامان کیا ہو جائے سر کیا ہو

    یہ آہ بے اثر کیا ہو یہ نخل بے ثمر کیا ہو

    نہ ہو جب درد ہی یارب تو دل کیا ہو جگر کیا ہو

    جہاں انسان کھو جاتا ہو خود پھر اس کی محفل میں

    رسائی کس طرح ہو دخل کیوں کر ہو گزر کیا ہو

    نہ پوچھوں گا میں یہ بھی جام میں ہے زہر یا امرت

    تمہارے ہاتھ سے اندیشۂ نفع و ضرر کیا ہو

    مروت سے ہو بیگانہ وفا سے دور ہو کوسوں

    یہ سچ ہے نازنیں ہو خوب صورت ہو مگر کیا ہو

    شگوفے دیکھ کر مٹھی میں زر کو مسکراتے ہیں

    کہ جب عمر اس قدر کوتاہ رکھتے ہیں تو زر کیا ہو

    رہا کرتی ہے یہ حیرت مجھے زہد ریائی پر

    خدا سے جو نہیں ڈرتا اسے بندہ کا ڈر کیا ہو

    کہا میں نے کہ نظمؔ مبتلا مرتا ہے حسرت میں

    کہا اس نے اگر مر جائے تو میرا ضرر کیا ہو

    کہا میں نے کہ ہے سوز جگر اور اف نہیں کرتا

    کہا اس کی اجازت ہی نہیں پھر نوحہ گر کیا ہو

    کہا میں نے کہ دے اس کو اجازت آہ کرنے کی

    کہا اس نے بھڑک اٹھے اگر سوز جگر کیا ہو

    کہا میں نے کہ آنسو آنکھ کا لیکن نہیں تھمتا

    کہا آنکھیں کوئی تلووں سے مل ڈالے اگر کیا ہو

    کہا میں نے قدم بھر پر ہے وہ صورت دکھا آؤ

    کہا منہ پھیر کر اتنا کسی کو درد سر کیا ہو

    کہا میں نے اثر مطلق نہیں کیا سنگ دل ہے تو

    کہا جب دل ہو پتھر کا تو پتھر پر اثر کیا ہو

    کہا میں نے جو مر جائے تو کیا ہو سوچ تو دل میں

    کہا ناعاقبت اندیش نے کچھ سوچ کر کیا ہو

    کہا میں نے خبر بھی ہے کہ دی جاں اس نے گھٹ گھٹ کر

    کہا مر جائے چپکے سے تو پھر مجھ کو خبر کیا ہو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY