ابھی دیوانگی میں کچھ کمی محسوس ہوتی ہے

جگر بریلوی

ابھی دیوانگی میں کچھ کمی محسوس ہوتی ہے

جگر بریلوی

MORE BYجگر بریلوی

    ابھی دیوانگی میں کچھ کمی محسوس ہوتی ہے

    ابھی اے شدت غم زندگی محسوس ہوتی ہے

    ابھی مجھ میں کوئی شے اور بھی محسوس ہوتی ہے

    ابھی ادراک وحدت میں کمی محسوس ہوتی ہے

    نہ جانے زخم دل کی آج گہرائی کہاں پہنچی

    پھٹا جاتا ہے سینہ وہ خوشی محسوس ہوتی ہے

    سمایا جاتا ہے جیسے کوئی رگ رگ میں دل بن کر

    یونہی غم میں کوئی شے اور بھی محسوس ہوتی ہے

    شب تاریک ہے ویرانہ ہے محویت غم ہے

    عجب عالم میں قربت آپ کی محسوس ہوتی ہے

    ازل سے موت نے اب تک کئی قالب بدلوائے

    مگر جو چوٹ تھی دل میں وہی محسوس ہوتی ہے

    جہاں وہ بیٹھ جائے گر کے منزل ہے وہی اس کی

    جسے ہر گام پر واماندگی محسوس ہوتی ہے

    کسی کی یاد کو ہر دم بھلائے رکھتا ہوں پھر بھی

    کھٹکتی دل میں نوک خار سی محسوس ہوتی ہے

    بیاباں کی کشش اب لے اڑے گی دل کے ذروں کو

    کہ ہر ہر سانس پر وارفتگی محسوس ہوتی ہے

    جہاں دل ضبط غم سے خون ہو جاتا ہے سینہ میں

    وہیں کچھ روح کو بالیدگی محسوس ہوتی ہے

    اگر سینہ میں دل رکھتے ہو تم تو آج بتلا دو

    تمہیں بھی میری بیتابی کبھی محسوس ہوتی ہے

    وفور تلخ کامی سے یہ عقدہ کھل گیا آخر

    جو ہوتی ہے تو غم میں زندگی محسوس ہوتی ہے

    کوئی جینے کو سمجھے مایۂ عشرت برا کیا ہے

    مجھے تو اک عبادت زندگی محسوس ہوتی ہے

    غزل سے اے جگرؔ اندازہ کر میری طبیعت کا

    غزل میں کیفیت کچھ روح کی محسوس ہوتی ہے

    مأخذ :
    • کتاب : Partav-e-ilhaam (Pg. 119)
    • Author : Jigar Barelvi
    • مطبع : Publisher Nizami Book Agency, Budaun (2012)
    • اشاعت : 2012

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY