اچانک دل ربا موسم کا دل آزار ہو جانا

ادا جعفری

اچانک دل ربا موسم کا دل آزار ہو جانا

ادا جعفری

MORE BY ادا جعفری

    اچانک دل ربا موسم کا دل آزار ہو جانا

    دعا آساں نہیں رہنا سخن دشوار ہو جانا

    تمہیں دیکھیں نگاہیں اور تم کو ہی نہیں دیکھیں

    محبت کے سبھی رشتوں کا یوں نادار ہو جانا

    ابھی تو بے نیازی میں تخاطب کی سی خوشبو تھی

    ہمیں اچھا لگا تھا درد کا دل دار ہو جانا

    اگر سچ اتنا ظالم ہے تو ہم سے جھوٹ ہی بولو

    ہمیں آتا ہے پت جھڑ کے دنوں گل بار ہو جانا

    ابھی کچھ ان کہے الفاظ بھی ہیں کنج مژگاں میں

    اگر تم اس طرف آؤ صبا رفتار ہو جانا

    ہوا تو ہم سفر ٹھہری سمجھ میں کس طرح آئے

    ہواؤں کا ہماری راہ میں دیوار ہو جانا

    ابھی تو سلسلہ اپنا زمیں سے آسماں تک تھا

    ابھی دیکھا تھا راتوں کا سحر آثار ہو جانا

    ہمارے شہر کے لوگوں کا اب احوال اتنا ہے

    کبھی اخبار پڑھ لینا کبھی اخبار ہو جانا

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    نامعلوم

    نامعلوم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY