اچانک ہو گئیں نکتے کی باتیں
ہمارے درمیاں پیسے کی باتیں
اچانک گفتگو نے رنگ بدلا
نکل آئیں بہت پہلے کی باتیں
جہاں ہر وقت کوئی مر رہا ہو
وہاں کرتے نہیں مرنے کی باتیں
بہانے سے سنایا حال اپنا
ہوئی تجھ سے ترے جیسے کی باتیں
نہ گھر جانے کی اب جلدی ہے کوئی
نہ گھر کو چھوڑ کر جانے کی باتیں
جو ساحل پر ہیں ان کا دکھ بھی سمجھو
ہمیشہ ڈوبنے والے کی باتیں
- کتاب : دکھ نئے کپڑے بدل کر (Pg. 87)
- Author : شارق کیفی
- مطبع : ریختہ پبلی کیشنز (2019)
- اشاعت : First
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.