اچھے موسم میں تگ و تاز بھی کر لیتا ہوں

انجم سلیمی

اچھے موسم میں تگ و تاز بھی کر لیتا ہوں

انجم سلیمی

MORE BYانجم سلیمی

    اچھے موسم میں تگ و تاز بھی کر لیتا ہوں

    پر نکل آتے ہیں پرواز بھی کر لیتا ہوں

    تجھ سے یہ کیسا تعلق ہے جسے جب چاہوں

    ختم کر دیتا ہوں آغاز بھی کر لیتا ہوں

    گنبد ذات میں جب گونجنے لگتا ہوں بہت

    خامشی توڑ کے آواز بھی کر لیتا ہوں

    یوں تو اس حبس سے مانوس ہیں سانسیں میری

    ویسے دیوار میں در باز بھی کر لیتا ہوں

    سب کے سب خواب میں تقسیم نہیں کر دیتا

    ایک دو خواب پس انداز بھی کر لیتا ہوں

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    اچھے موسم میں تگ و تاز بھی کر لیتا ہوں نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY