اچھی صورت پہ غضب ٹوٹ کے آنا دل کا

داغؔ دہلوی

اچھی صورت پہ غضب ٹوٹ کے آنا دل کا

داغؔ دہلوی

MORE BYداغؔ دہلوی

    دلچسپ معلومات

    فلم جاں نثار ۲۰۱۵

    اچھی صورت پہ غضب ٹوٹ کے آنا دل کا

    یاد آتا ہے ہمیں ہائے زمانا دل کا

    تم بھی منہ چوم لو بے ساختہ پیار آ جائے

    میں سناؤں جو کبھی دل سے فسانا دل کا

    نگۂ یار نے کی خانہ خرابی ایسی

    نہ ٹھکانا ہے جگر کا نہ ٹھکانا دل کا

    پوری مہندی بھی لگانی نہیں آتی اب تک

    کیوں کر آیا تجھے غیروں سے لگانا دل کا

    غنچۂ گل کو وہ مٹھی میں لیے آتے تھے

    میں نے پوچھا تو کیا مجھ سے بہانا دل کا

    ان حسینوں کا لڑکپن ہی رہے یا اللہ

    ہوش آتا ہے تو آتا ہے ستانا دل کا

    دے خدا اور جگہ سینہ و پہلو کے سوا

    کہ برے وقت میں ہو جائے ٹھکانا دل کا

    میری آغوش سے کیا ہی وہ تڑپ کر نکلے

    ان کا جانا تھا الٰہی کہ یہ جانا دل کا

    نگہ شرم کو بے تاب کیا کام کیا

    رنگ لایا تری آنکھوں میں سمانا دل کا

    انگلیاں تار گریباں میں الجھ جاتی ہیں

    سخت دشوار ہے ہاتھوں سے دبانا دل کا

    حور کی شکل ہو تم نور کے پتلے ہو تم

    اور اس پر تمہیں آتا ہے جلانا دل کا

    چھوڑ کر اس کو تری بزم سے کیوں کر جاؤں

    اک جنازے کا اٹھانا ہے اٹھانا دل کا

    بے دلی کا جو کہا حال تو فرماتے ہیں

    کر لیا تو نے کہیں اور ٹھکانا دل کا

    بعد مدت کے یہ اے داغؔ سمجھ میں آیا

    وہی دانا ہے کہا جس نے نہ مانا دل کا

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    شریا گھوشال

    شریا گھوشال

    ثریا

    ثریا

    مأخذ :
    • کتاب : Kulliyat-e-daag(mehtaab-e-daag (Pg. 4)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY