ادا سے دیکھ لو جاتا رہے گلہ دل کا

آفتاب الدولہ لکھنوی قلق

ادا سے دیکھ لو جاتا رہے گلہ دل کا

آفتاب الدولہ لکھنوی قلق

MORE BY آفتاب الدولہ لکھنوی قلق

    ادا سے دیکھ لو جاتا رہے گلہ دل کا

    بس اک نگاہ پہ ٹھیرا ہے فیصلہ دل کا

    وہ ظلم کرتے ہیں مجھ پر تو لوگ کہتے ہیں

    خدا برے سے نہ ڈالے معاملہ دل کا

    پھرا جو کوچۂ کاکل سے کوئی پوچھیں گے

    سنا ہے لٹ گیا رستے میں قافلہ دل کا

    ہزار فصل گل آئے جنوں وہ جوش کہاں

    گیا شباب کے ہم راہ ولولہ دل کا

    بہار آتے ہی کنج قفس نصیب ہوا

    ہزار حیف کہ نکلا نہ حوصلہ دل کا

    الٰہی خیر ہو کچھ آج رنگ بے ڈھب ہے

    تپک رہا ہے کئی دن سے آبلہ دل کا

    خدا کے ہاتھ ہے اب اپنا اے قلقؔ انصاف

    بتوں سے حشر میں ہوگا مقابلہ دل کا

    مآخذ:

    • Book : Noquush (Pg. B-416 E-426)
    • مطبع : Nuqoosh Press Lahore (May June 1954)
    • اشاعت : May June 1954

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY