اداکاری میں بھی سو کرب کے پہلو نکل آئے

پیرزادہ قاسم

اداکاری میں بھی سو کرب کے پہلو نکل آئے

پیرزادہ قاسم

MORE BYپیرزادہ قاسم

    اداکاری میں بھی سو کرب کے پہلو نکل آئے

    کہ فنکارانہ روتے تھے مگر آنسو نکل آئے

    ہمیں اپنی ہی جانب اب سفر آغاز کرنا ہے

    سو مثل نکہت گل ہو کے بے قابو نکل آئے

    یہی بے نام پیکر حسن بن جائیں گے فردا کا

    سخن مہکے اگر کچھ عشق کی خوشبو نکل آئے

    اسی امید پر ہم قتل ہوتے آئے ہیں اب تک

    کہ کب قاتل کے پردے میں کوئی دل جو نکل آئے

    سمجھتے تھے کہ مہجوری کی ظلمت ہی مقدر ہے

    مگر پھر اس کی یادوں کے بہت جگنو نکل آئے

    دلوں کو جیت لینا اس قدر آسان ہی کب تھا

    مگر اب شعبدے ہیں اور بہت جادو نکل آئے

    سفر کی انتہا تک ایک تازہ آس باقی ہے

    کہ میں یہ موڑ کاٹوں اس طرف سے تو نکل آئے

    RECITATIONS

    پیرزادہ قاسم

    پیرزادہ قاسم

    پیرزادہ قاسم

    اداکاری میں بھی سو کرب کے پہلو نکل آئے پیرزادہ قاسم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY