ادب نے دل کے تقاضے اٹھائے ہیں کیا کیا

یگانہ چنگیزی

ادب نے دل کے تقاضے اٹھائے ہیں کیا کیا

یگانہ چنگیزی

MORE BYیگانہ چنگیزی

    ادب نے دل کے تقاضے اٹھائے ہیں کیا کیا

    ہوس نے شوق کے پہلو دبائے ہیں کیا کیا

    نہ جانے سہو قلم ہے کہ شاہکار قلم

    بلائے حسن نے فتنے اٹھائے ہیں کیا کیا

    نگاہ ڈال دی جس پر وہ ہو گیا اندھا

    نظر نے رنگ تصرف دکھائے ہیں کیا کیا

    اسی فریب نے مارا کہ کل ہے کتنی دور

    اس آج کل میں عبث دن گنوائے ہیں کیا کیا

    پہاڑ کاٹنے والے زمیں سے ہار گئے

    اسی زمین میں دریا سمائے ہیں کیا کیا

    گزر کے آپ سے ہم آپ تک پہنچ تو گئے

    مگر خبر بھی ہے کچھ پھیر کھائے ہیں کیا کیا

    بلند ہو تو کھلے تجھ پہ زور پستی کا

    بڑے بڑوں کے قدم ڈگمگائے ہیں کیا کیا

    خوشی میں اپنے قدم چوم لوں تو زیبا ہے

    وہ لغزشوں پہ مری مسکرائے ہیں کیا کیا

    خدا ہی جانے یگانہؔ میں کون ہوں کیا ہوں

    خود اپنی ذات پہ شک دل میں آئے ہیں کیا کیا

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    حامد علی

    حامد علی

    RECITATIONS

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل,

    فصیح اکمل

    ادب نے دل کے تقاضے اٹھائے ہیں کیا کیا فصیح اکمل

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY