ادھوری قربتوں کے خواب آنکھوں کو دکھا جانا

مخمور سعیدی

ادھوری قربتوں کے خواب آنکھوں کو دکھا جانا

مخمور سعیدی

MORE BYمخمور سعیدی

    ادھوری قربتوں کے خواب آنکھوں کو دکھا جانا

    ہزاروں دوریوں پر یہ ترا کچھ پاس آ جانا

    اداسی کے دھندلکوں کا دماغ و دل پہ چھا جانا

    نظر کے سامنے اک گمشدہ منظر کا آ جانا

    سنی ہے میں نے اکثر بند دروازوں کی سرگوشی

    صدائیں چاہتی ہیں سب کھلی سڑکوں پہ آ جانا

    تری یادیں کہ اس طوفان ظلمت میں بھی روشن ہیں

    ہوا مشکل ہوا کو ان چراغوں کا بجھا جانا

    خلا میں ڈوبتی سی آہٹیں تھیں کچھ جنہیں ہم نے

    سفر میں ساتھ رکھا منزلوں کا آسرا جانا

    میں تیرے ساتھ ہوں تو اس کی خوشبو کے تعاقب میں

    جہاں تک جا سکے اے سر پھری موج ہوا جانا

    نظر اس کی بھی اے مخمورؔ دھوکا کھا گئی آخر

    وہی تھا آشنا چہرہ جسے نا آشنا جانا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY