افکار کے سانچے میں ڈھلی تازہ غزل ہے

صبا نقوی

افکار کے سانچے میں ڈھلی تازہ غزل ہے

صبا نقوی

MORE BYصبا نقوی

    افکار کے سانچے میں ڈھلی تازہ غزل ہے

    یا وقت کے پیچیدہ سوالات کا حل ہے

    یہ سنگ کی بنیاد پہ تعمیر نہ ہوگا

    یہ میرے تخیل کا حسیں شیش محل ہے

    میں اپنی محبت کا بدل ڈھونڈ رہا ہوں

    وہ کون ہے جو میری محبت کا بدل ہے

    اے تار نفس ٹوٹ بھی جا دیر نہ کر اب

    احساس کی بالیں پہ کھڑی کب سے اجل ہے

    جو عرصۂ ماضی ہے مؤرخ کی نظر میں

    شاعر کی نگاہوں میں وہ گزرا ہوا پل ہے

    جو ہجر کے موسم میں کھلے داغ کی صورت

    وہ پھول بہ الفاظ دگر آگ کا پھل ہے

    میں درس تحمل ہوں صباؔ راہ طلب میں

    دنیا یہ سمجھتی ہے کہ بازو مرا شل ہے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY