اگر چبھتی ہوئی باتوں سے ڈرنا پڑ گیا تو

عاصم واسطی

اگر چبھتی ہوئی باتوں سے ڈرنا پڑ گیا تو

عاصم واسطی

MORE BYعاصم واسطی

    اگر چبھتی ہوئی باتوں سے ڈرنا پڑ گیا تو

    محبت سے کبھی تم کو مکرنا پڑ گیا تو

    تری بکھری ہوئی دنیا سمیٹے جا رہا ہوں

    اگر مجھ کو کسی دن خود بکھرنا پڑ گیا تو

    ذخیرہ پشت پر باندھا نہیں تم نے ہوا کا

    کہیں گہرے سمندر میں اترنا پڑ گیا تو

    وہ مجھ سے دور ہوتا جا رہا ہے رفتہ رفتہ

    اگر اس کو کبھی محسوس کرنا پڑ گیا تو

    تم اس رستے میں کیوں بارود بوئے جا رہے ہو

    کسی دن اس طرف سے خود گزرنا پڑ گیا تو

    بنا رکھا ہے منصوبہ کئی برسوں کا تو نے

    اگر اک دن اچانک تجھ کو مرنا پڑ گیا تو

    تمہاری ضد ہے عاصمؔ وہ نکھارے حسن اپنا

    اگر اس کے لیے تم کو سنورنا پڑ گیا تو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY