اگر خدا نہ کرے سچ یے خواب ہو جائے

دشینت کمار

اگر خدا نہ کرے سچ یے خواب ہو جائے

دشینت کمار

MORE BYدشینت کمار

    اگر خدا نہ کرے سچ یے خواب ہو جائے

    تری سحر ہو مرا آفتاب ہو جائے

    حضور عارض و رخسار کیا تمام بدن

    مری سنو تو مجسم گلاب ہو جائے

    اٹھا کے پھینک دو کھڑکی سے ساغر و مینا

    یے تشنگی جو تمہیں دستیاب ہو جائے

    وہ بات کتنی بھلی ہے جو آپ کرتے ہیں

    سنو تو سینے کی دھڑکن رباب ہو جائے

    بہت قریب نہ آؤ یقیں نہیں ہوگا

    یے آرزو بھی اگر کامیاب ہو جائے

    غلط کہوں تو مری عاقبت بگڑتی ہے

    جو سچ کہوں تو خودی بے نقاب ہو جائے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY