اگر خوئے تحمل ہو تو کوئی غم نہیں ہوتا

واصف دہلوی

اگر خوئے تحمل ہو تو کوئی غم نہیں ہوتا

واصف دہلوی

MORE BYواصف دہلوی

    اگر خوئے تحمل ہو تو کوئی غم نہیں ہوتا

    گلے شکوے سے رنج زندگی کچھ کم نہیں ہوتا

    بجھی جاتی ہیں شمعیں رہ گزار زندگانی کی

    چراغ آرزو لیکن کبھی مدھم نہیں ہوتا

    خدا کے سامنے جو سر یقیں کے ساتھ جھک جائے

    کسی طاقت کے آگے پھر کبھی وہ خم نہیں ہوتا

    عطا کی ہے خدا نے علم کی دولت اگر تجھ کو

    سخاوت کر سخاوت یہ خزانہ کم نہیں ہوتا

    سیاست جزو ایماں ہے چلو یوں ہی سہی لیکن

    کوئی مرشد مزاج وقت کا محرم نہیں ہوتا

    عروج پیکر خاکی سے ہے انسانیت لرزاں

    فساد و سرکشی سے پاک یہ عالم نہیں ہوتا

    سنو آزادئ انساں کا دھونسا پیٹنے والو

    ہر اک انساں وجہ عظمت آدم نہیں ہوتا

    بقدر ظرف و ہمت ہے رسائی فکر انساں کی

    ہر اک عامی رموز ملک کا محرم نہیں ہوتا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY