اگر نہ مانیں نہ سمجھو کہ جانتے ہی نہیں

محمد اعظم

اگر نہ مانیں نہ سمجھو کہ جانتے ہی نہیں

محمد اعظم

MORE BY محمد اعظم

    اگر نہ مانیں نہ سمجھو کہ جانتے ہی نہیں

    ضدوں کی بات بھی ہے کچھ مغالطے ہی نہیں

    مطالبات محبت ہیں میں ہوں اور تم ہو

    عجیب ہے یہ مثلث کہ زاویے ہی نہیں

    مرے جنوں کے بھروسے پہ کہہ دیا اس نے

    ہم آئے آپ کے گھر پر تو آپ تھے ہی نہیں

    بیاض دل کی کریں تو کریں کہاں اصلاح

    کتابت ایسی ہوئی ہے کہ حاشیے ہی نہیں

    اسی محیط میں واپس پلٹ کے آنا تھا

    تو بن کے ابر کبھی جا سے ہم اٹھے ہی نہیں

    اجاڑ ہو گیا صحرائے دل کہ جیسے یہاں

    غزال و ضیغم و کرگس کبھی رہے ہی نہیں

    اب اس مقام پہ بیم و رجا ہیں بے معنی

    کہ چاہتے ہیں اسے جس کو چاہتے ہی نہیں

    یہی ہے راستہ اب دوریاں بڑھائیں گے

    بڑھیں ہم اس کی طرف کیسے فاصلے ہی نہیں

    کوئی فریب کہ ہم جس سے دل کو بہلائیں

    تلاش کرتے ہیں خط اس نے جو لکھے ہی نہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY