اگر وہ مل کے بچھڑنے کا حوصلہ رکھتا

عفت زریں

اگر وہ مل کے بچھڑنے کا حوصلہ رکھتا

عفت زریں

MORE BYعفت زریں

    اگر وہ مل کے بچھڑنے کا حوصلہ رکھتا

    تو درمیاں نہ مقدر کا فیصلہ رکھتا

    وہ مجھ کو بھول چکا اب یقین ہے ورنہ

    وفا نہیں تو جفاؤں کا سلسلہ رکھتا

    بھٹک رہے ہیں مسافر تو راستے گم ہیں

    اندھیری رات میں دیپک کوئی جلا رکھتا

    مہک مہک کے بکھرتی ہیں اس کے آنگن میں

    وہ اپنے گھر کا دریچہ اگر کھلا رکھتا

    اگر وہ چاند کی بستی کا رہنے والا تھا

    تو اپنے ساتھ ستاروں کا قافلہ رکھتا

    جسے خبر نہیں خود اپنی ذات کی زریںؔ

    وہ دوسروں کا بھلا کس طرح پتا رکھتا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY