اگر یقین نہ رکھتے گمان تو رکھتے

اطہر ناسک

اگر یقین نہ رکھتے گمان تو رکھتے

اطہر ناسک

MORE BYاطہر ناسک

    اگر یقین نہ رکھتے گمان تو رکھتے

    ہم اپنے ہونے کا کوئی نشان تو رکھتے

    تمام دن جو کڑی دھوپ میں سلگتے ہیں

    یہ پیڑ سر پہ کوئی سائبان تو رکھتے

    ہماری بات سمجھ میں تو ان کی آ جاتی

    ہم اپنے ساتھ کوئی ترجمان تو رکھتے

    ہمیں سفر کا خسارہ پسند تھا ورنہ

    مسافرت کی تھکن سر پہ تان تو رکھتے

    مشاہدات کا در لازماً کھلا ہوتا

    ہم اپنی آنکھ سوئے شمع دان تو رکھتے

    جلا کے بیٹھ گئے دامن سحر ناسکؔ

    ستارے ٹوٹ رہے تھے تو دھیان تو رکھتے

    مأخذ :
    • کتاب : Adab-o-Saqafat International (Pg. 64)
    • Author : Shakeelsarosh
    • مطبع : Misal Publishers Raheem Center Press Market Ameen Pur Bazar, Faisalbad, Pakistan

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے