اگرچہ میں اک چٹان سا آدمی رہا ہوں

محسن نقوی

اگرچہ میں اک چٹان سا آدمی رہا ہوں

محسن نقوی

MORE BYمحسن نقوی

    اگرچہ میں اک چٹان سا آدمی رہا ہوں

    مگر ترے بعد حوصلہ ہے کہ جی رہا ہوں

    وہ ریزہ ریزہ مرے بدن میں اتر رہا ہے

    میں قطرہ قطرہ اسی کی آنکھوں کو پی رہا ہوں

    تری ہتھیلی پہ کس نے لکھا ہے قتل میرا

    مجھے تو لگتا ہے میں ترا دوست بھی رہا ہوں

    کھلی ہیں آنکھیں مگر بدن ہے تمام پتھر

    کوئی بتائے میں مر چکا ہوں کہ جی رہا ہوں

    کہاں ملے گی مثال میری ستم گری کی

    کہ میں گلابوں کے زخم کانٹوں سے سی رہا ہوں

    نہ پوچھ مجھ سے کہ شہر والوں کا حال کیا تھا

    کہ میں تو خود اپنے گھر میں بھی دو گھڑی رہا ہوں

    ملا تو بیتے دنوں کا سچ اس کی آنکھ میں تھا

    وہ آشنا جس سے مدتوں اجنبی رہا ہوں

    بھلا دے مجھ کو کہ بے وفائی بجا ہے لیکن

    گنوا نہ مجھ کو کہ میں تری زندگی رہا ہوں

    وہ اجنبی بن کے اب ملے بھی تو کیا ہے محسنؔ

    یہ ناز کم ہے کہ میں بھی اس کا کبھی رہا ہوں

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    اگرچہ میں اک چٹان سا آدمی رہا ہوں نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY