اگلے پڑاؤ پر یوں ہی خیمہ لگاؤ گے

عابد مناوری

اگلے پڑاؤ پر یوں ہی خیمہ لگاؤ گے

عابد مناوری

MORE BYعابد مناوری

    اگلے پڑاؤ پر یوں ہی خیمہ لگاؤ گے

    جتنی بھی ہے سفر کی تھکن بھول جاؤ گے

    باہر ہوائے تیز لگائے ہوئے ہے گھات

    گھر سے جو نکلے اب کہ پلٹ کر نہ آؤ گے

    ہر شخص اپنے آپ میں مصروف ہے یہاں

    کس کو فسانۂ دل مضطر سناؤ گے

    تابندہ خواب دیکھ کر آنکھیں کھلیں گی جب

    ظلمات کے بغیر یہاں کچھ نہ پاؤ گے

    اک دوسرے سے ہو کے الگ خوش رہے گا کون

    تڑپیں گے ہم بھی خود بھی تم آنسو بہاؤ گے

    جا تو رہے ہو جنس وفا کی تلاش میں

    ساتھ اپنے یاسیت کے سوا کچھ نہ لاؤ گے

    گرداب سامنے ہے مخالف ہوائیں ہیں

    کشتی کو کیسے جانب ساحل گھماؤ گے

    جس کو خلوص سمجھے ہوئے تھے وہ کیا ہوا

    کتنا یقین تھا تمہیں دھوکا نہ کھاؤ گے

    پربت ہیں برف پوش قدم دیکھ بھال کر

    عابدؔ پھسل گئے تو سنبھلنے نہ پاؤ گے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY