اہل دل جو بھی بات کہتے ہیں

کیف مرادآبادی

اہل دل جو بھی بات کہتے ہیں

کیف مرادآبادی

MORE BYکیف مرادآبادی

    اہل دل جو بھی بات کہتے ہیں

    کوئی راز حیات کہتے ہیں

    ان کے غم سے ہے جاوداں ورنہ

    زیست کو بے ثبات کہتے ہیں

    ہائے وہ دور عشق جب آنسو

    داستان حیات کہتے ہیں

    خواب غفلت میں جو گزرتا ہے

    ہم تو اس دن کو رات کہتے ہیں

    عشق کی اصطلاح میں غم کو

    انقلاب حیات کہتے ہیں

    جو بھی ہیں واقف حقیقت دل

    دل کو ہی کائنات کہتے ہیں

    لفظ و معنی میں آ نہیں سکتی

    وہ نظر سے جو بات کہتے ہیں

    مرد حق میں تو ماسوا کو بھی

    پرتو حسن ذات کہتے ہیں

    مدتوں غور کرنا پڑتا ہے

    ان سے جب دل کی بات کہتے ہیں

    کار گاہ نقوش عبرت کو

    کیفؔ سب کائنات کہتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY