اے بت جفا سے اپنی لیا کر وفا کا کام

شاد عظیم آبادی

اے بت جفا سے اپنی لیا کر وفا کا کام

شاد عظیم آبادی

MORE BYشاد عظیم آبادی

    اے بت جفا سے اپنی لیا کر وفا کا کام

    بندوں کے کام آ کہ یہی ہے خدا کا کام

    کس جا تھا قصد شوق نے پہنچا دیا کدھر

    کہتے نہ تھے ٹھگوں سے نہ لے رہ نما کا کام

    کہتا ہے دل سنا مجھے گیسو کی داستاں

    آج اس نے سر پہ ڈال دیا ہے بلا کا کام

    تاثیر کو نہ آہ سے پوچھوں تو کیا کروں

    کیوں خود اٹھا لیا دل بے مدعا کا کام

    اپنی سی تو تو کر انہیں پھر اختیار ہے

    سننا ہے ان کا کام پہنچنا دعا کا کام

    سینے میں داغ کھلتے ہی جاتے ہیں ہر نفس

    اب اپنی سانس کرتی ہے باد صبا کا کام

    موسیٰ فقط نہ تھے ترے آئینہ داروں میں

    عیسیٰ بھی کرتے تھے لب معجزنما کا کام

    ہر رات اپنی آنکھوں کو رونا ہے فرض عین

    طاعت گزار کرتے ہیں جیسے خدا کا کام

    تھا بھی ذلیل حسن کی سرکار میں یہ دل

    کم بخت کو سپرد ہوا التجا کا کام

    اے شادؔ میری سخت زبانی پہ ہے خموش

    ناصح بھی اب تو کرنے لگا انبیا کا کام

    RECITATIONS

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    اے بت جفا سے اپنی لیا کر وفا کا کام فصیح اکمل

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY