اے خار خار حسرت کیا کیا فگار ہیں ہم

قلق میرٹھی

اے خار خار حسرت کیا کیا فگار ہیں ہم

قلق میرٹھی

MORE BY قلق میرٹھی

    اے خار خار حسرت کیا کیا فگار ہیں ہم

    کیا حال ہوگا اس کا جس دل میں خار ہیں ہم

    ہر چند دل میں تیرے ظالم غبار ہیں ہم

    کتنے دبے ہوئے ہیں کیا خاکسار ہیں ہم

    کیا جانے کیا دکھائے کم بخت راز دشمن

    بے اختیار ہو تم اور بے قرار ہیں ہم

    واں شوخیوں نے مارے ناکام کیسے کیسے

    یاں سادگی سے کیا کیا امیدوار ہیں ہم

    نے رخت میکدے میں نے کعبے کا ارادہ

    ہیں دل لگی کے بندے یاروں کے یار ہیں ہم

    واں سرگزشت دشمن وہ کہہ رہے ہیں منہ پر

    یاں بے خودی ہے اس پر کیا راز دار ہیں ہم

    ساقی تری نگاہیں کب تک رہیں گی پلٹی

    ہے نشہ زاہدوں کو اور بادہ خوار ہیں ہم

    کعبہ ہے سنگ بالیں زہاد خفتہ دل کا

    اور مے کدے کے اندر شب زندہ دار ہیں ہم

    اللہ رے ظرف دل کا سب کی جگہ ہے اس میں

    بے غم رہے ہے دشمن کیا غم گسار ہیں ہم

    اے حشر بچ کے چلنا اے چرخ ہٹ کے گرنا

    ہے برق سایہ جس کا وہ خار زار ہیں ہم

    اتنی خلش مژہ کی اب بڑھ گئی کہ گویا

    زخم دل عدو میں خنجر گزار ہیں ہم

    کب تک رہے گا دشمن جامے سے اپنے باہر

    ہو آگ آگ جس سے تم وہ شرار ہیں ہم

    دشمن کی جیب میں تم صبر و شکیب میں ہم

    تم دست کوتہی ہو پائے نگار ہیں ہم

    وادی جستجو سے گزریں تو کیا عجب ہے

    وارفتہ کیسے کیسے لیل و نہار ہیں ہم

    کیا بادۂ جوانی مرد آزماں نشہ تھا

    اب اے قلقؔ وبال خواب و خمار ہیں ہم

    مآخذ:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY