اے خدا حسرت و جذبات کے مارے ہوئے لوگ

عامر سوقی

اے خدا حسرت و جذبات کے مارے ہوئے لوگ

عامر سوقی

MORE BYعامر سوقی

    اے خدا حسرت و جذبات کے مارے ہوئے لوگ

    اب کہاں جائیں یہ حالات کے مارے ہوئے لوگ

    تیری دنیا کی کہانی بھی عجب ہے مولا

    در بدر رہتے ہیں حق بات کے مارے ہوئے لوگ

    صبح نو کے لئے زنبیل طلب لائے ہیں

    دشت ویراں میں سیہ رات کے مارے ہوئے لوگ

    تو بھی آرام ذرا کر لے غبار منزل

    ابھی سوئے ہیں مسافات کے مارے ہوئے لوگ

    ہو کے مایوس پری خانے سے لوٹے شوقیؔ

    جانے کیوں شوخ اشارات کے مارے ہوئے لوگ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY