اے لمحو میں کیوں لمحۂ لرزاں ہوں بتاؤ

راجیندر منچندا بانی

اے لمحو میں کیوں لمحۂ لرزاں ہوں بتاؤ

راجیندر منچندا بانی

MORE BYراجیندر منچندا بانی

    اے لمحو میں کیوں لمحۂ لرزاں ہوں بتاؤ

    کس جاگتے باطن کا میں امکاں ہوں بتاؤ

    میں ایک کھلے باب تصور کی رسائی

    میں کس کے لیے اس قدر آساں ہوں بتاؤ

    کس لمس کی تحریر ہوں محراب ہوا پر

    کس لفظ کا مفہوم فراواں ہوں بتاؤ

    کس منظر اثبات کے ہونٹوں کی ضیا ہوں

    کس چپ کی میں آواز فراواں ہوں بتاؤ

    میں سلسلہ در سلسلہ اک نامۂ روشن

    کس حرف بشارت کا دبستاں ہوں بتاؤ

    کس بوسۂ بے ساختہ کا ہوں میں تقدس

    کس سینۂ بے داغ کا ارماں ہوں بتاؤ

    میں صبح کے نظارۂ اول کی خنک بو

    میں کس کا یہ سرمایۂ ارزاں ہوں بتاؤ

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے