اے موسم جنوں یہ عجب طرز قتل ہے

عبرت مچھلی شہری

اے موسم جنوں یہ عجب طرز قتل ہے

عبرت مچھلی شہری

MORE BYعبرت مچھلی شہری

    اے موسم جنوں یہ عجب طرز قتل ہے

    انسانیت کے کھیتوں میں لاشوں کی فصل ہے

    اپنے لہو کا رنگ بھی پہچانتی نہیں

    انسان کے نصیب میں اندھوں کی نسل ہے

    منصف تو فیصلوں کی تجارت میں لگ گئے

    اب جانے کس سے ہم کو تقاضائے عدل ہے

    دشمن کا حوصلہ کبھی اتنا قوی نہ تھا

    میرے تباہ ہونے میں تیرا بھی دخل ہے

    لڑتے بھی ہیں تو پیار سے منہ موڑتے نہیں

    ہم سے کہیں زیادہ تو بچوں میں عقل ہے

    تاریخ کہہ رہی ہے کہ چہرہ بدل گیا

    انسان ہے مصر کہ وہی اپنی شکل ہے

    دعویٔ خوں بہا نہ تظلم نہ احتجاج

    کس بے نوائے وقت کا عبرتؔ یہ قتل ہے

    مأخذ :
    • کتاب : Aansuwon Ki Barat (Pg. 109)
    • Author : Ibrat Machhali Shahri
    • مطبع : News Town Publishers (2013)
    • اشاعت : 2013

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے