اے سالک انتظار حج میں کیا تو ہکا بکا ہے

ولی عزلت

اے سالک انتظار حج میں کیا تو ہکا بکا ہے

ولی عزلت

MORE BYولی عزلت

    اے سالک انتظار حج میں کیا تو ہکا بکا ہے

    بگھولے سا تو کر لے طوف دل پہلو میں مکا ہے

    چراغ گل کو روشن کر دیا آہوں کے شعلے سے

    ہزاروں درجے بلبل خام پروانوں سے پکا ہے

    جو ہے ہر سنگ میں پنہاں سو آتش لال سے چمکی

    سبھی میں حق ہے ہر عارف میں کیا سیوا جھمکا ہے

    گئی نیں بوئے شیر اس لب سے لیکن دیکھ وہ طلعت

    وہی مہتاب کا ہے آب و افسردہ ہو چکا ہے

    اے رب عرفاں کے درپن کو نہ رووے جوہر خواہش

    ہوس کی موج الماس صفائے دل کو لکا ہے

    وہ زلف و رو سے جگ ہے کفر و ایماں کے تردد میں

    دو دل کرنے کوں اک عالم کے میرا شوخ پکا ہے

    دل بیراگئی عزلتؔ میں رکھتا ہے دم ہستی

    کمر میں اوس میاں کے جیسے سیلی کا متکا ہے

    مآخذ :
    • Deewan-e-uzlat(Rekhta Website)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY