اے صنم جس نے تجھے چاند سی صورت دی ہے

حیدر علی آتش

اے صنم جس نے تجھے چاند سی صورت دی ہے

حیدر علی آتش

MORE BYحیدر علی آتش

    اے صنم جس نے تجھے چاند سی صورت دی ہے

    اسی اللہ نے مجھ کو بھی محبت دی ہے

    تیغ بے آب ہے نے بازوئے قاتل کمزور

    کچھ گراں جانی ہے کچھ موت نے فرصت دی ہے

    اس قدر کس کے لیے یہ جنگ و جدل اے گردوں

    نہ نشاں مجھ کو دیا ہے نہ تو نوبت دی ہے

    سانپ کے کاٹے کی لہریں ہیں شب و روز آتیں

    کاکل یار کے سودے نے اذیت دی ہے

    آئی اکسیر غنی دل نہیں رکھتی ایسا

    خاکساری نہیں دی ہے مجھے دولت دی ہے

    شمع کا اپنے فتیلہ نہیں کس رات جلا

    عمل حب کی بہت ہم نے بھی دعوت دی ہے

    جسم کو زیر زمیں بھی وہی پہونچا دے گا

    روح کو جس نے فلک سیر کی طاقت دی ہے

    فرقت یار میں رو رو کے بسر کرتا ہوں

    زندگانی مجھے کیا دی ہے مصیبت دی ہے

    یاد محبوب فراموش نہ ہووے اے دل

    حسن نیت نے مجھے عشق سے نعمت دی ہے

    گوش پیدا کیے سننے کو ترا ذکر جمال

    دیکھنے کو ترے، آنکھوں میں بصارت دی ہے

    لطف دل بستگیٔ عاشق شیدا کو نہ پوچھ

    دو جہاں سے اس اسیری نے فراغت دی ہے

    کمر یار کے مضمون کو باندھو آتشؔ

    زلف خوباں سی رسا تم کو طبیعت دی ہے

    مآخذ:

    • کتاب : Roomani Ghazlen (Pg. 50)
    • Author : Samina Hijab
    • مطبع : Maktaba Jamia Limited, New Delhi (1997)
    • اشاعت : 1997

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY