اے شب ہجر کہیں تیری سحر ہے کہ نہیں

مصحفی غلام ہمدانی

اے شب ہجر کہیں تیری سحر ہے کہ نہیں

مصحفی غلام ہمدانی

MORE BYمصحفی غلام ہمدانی

    اے شب ہجر کہیں تیری سحر ہے کہ نہیں

    نالۂ نیم شبی تجھ میں اثر ہے کہ نہیں

    جان پر اپنی میں کھیلا ہوں جدائی میں تری

    بے خبر تجھ کو بھی کچھ اس کی خبر ہے کہ نہیں

    ایک مدت ہوئی ہم وصف کمر کرتے ہیں

    پر یہ معلوم نہیں اس کے کمر ہے کہ نہیں

    رکھ نہ سوزن کو ذرا دیکھ تو لے اے جراح

    قابل بخیہ مرا زخم جگر ہے کہ نہیں

    کیا خوش آئی ہے دلا منزل ہستی تجھ کو

    سچ بتا یاں سے ترا عزم سفر ہے کہ نہیں

    تو جو بے پردہ ہو منہ غیر کو دکھلاتا ہے

    پاس میرا بھی کچھ اے رشک قمر ہے کہ نہیں

    دیکھ تو اے بت بے مہر تری فرقت میں

    ہر بن موے مرا دیدۂ تر ہے کہ نہیں

    اس کے در پر ہی جو رہتا ہوں میں دن رات پڑا

    مجھ سے جھنجھلا کے کہے ہے ترے گھر ہے کہ نہیں

    مصحفیؔ اس کی گلی میں جو تو جاتا ہے سدا

    اپنی بدنامی کا کچھ تجھ کو بھی ڈر ہے کہ نہیں

    مآخذ
    • کتاب : kulliyat-e-mas.hafii(divan-e-doom) (Pg. 198)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY