عین مستی میں ہوں دل دنیا سے بیگانہ ہے

یونس تحسین

عین مستی میں ہوں دل دنیا سے بیگانہ ہے

یونس تحسین

MORE BYیونس تحسین

    عین مستی میں ہوں دل دنیا سے بیگانہ ہے

    کیونکہ اب پیش نظر جلوۂ جانانہ ہے

    حشر کے روز ملاقات کا پروانہ ہے

    حوض کوثر مرے محبوب کا مے خانہ ہے

    چار عنصر کے تراشے کو تو اینویں نہ سمجھ

    ذرہ ذرہ مری توقیر میں دیوانہ ہے

    اول اول مجھے تخلیق کیا تھا اس نے

    عرش کے نیچے کا سارا مرا کاشانہ ہے

    بادۂ نور کے دو قطرے ہیں یہ رات اور دن

    آنکھ بے انت کی گہرائی کا پیمانہ ہے

    جس کو فانوس میں شعلے کی سمجھ آ جائے

    اس کے آگے نہ کوئی مجنوں نہ دیوانہ ہے

    جسم کا جسم سے کچھ دن کا تعلق ہوگا

    روح کا روح سے آغاز کا یارانہ ہے

    وصل ہی اصل ہے تحسینؔ پریشاں مت ہو

    ہجر آدم سے ہوئے جرم کا جرمانہ ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY