عینک کے دونوں شیشے ہی اٹے ہوئے تھے دھول میں

عمیق حنفی

عینک کے دونوں شیشے ہی اٹے ہوئے تھے دھول میں

عمیق حنفی

MORE BYعمیق حنفی

    عینک کے دونوں شیشے ہی اٹے ہوئے تھے دھول میں

    ہاتھ پڑ گیا کانٹوں پر پھولوں کے بدلے بھول میں

    چھوتے ہی آشائیں بکھریں جیسے سپنے ٹوٹ گئے

    کس نے اٹکائے تھے یہ کاغذ کے پھول ببول میں

    عشق کے ہجے بھی جو نہ جانیں وہ ہیں عشق کے دعویدار

    جیسے غزلیں رٹ کر گاتے ہیں بچے اسکول میں

    اب راتوں کو بھی بازاروں میں آوارہ پھرتے ہیں

    پہلے بھونرے ہو جاتے تھے بند کنول کے پھول میں

    موٹی ڈالوں والے پیڑ کے پتے کیسے پیلے ہیں

    کس نے دیکھا کون روگ ہے چھپا ہوا جڑ مول میں

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    عینک کے دونوں شیشے ہی اٹے ہوئے تھے دھول میں نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY