عیش سے کیوں خوش ہوئے کیوں غم سے گھبرایا کیے

معین احسن جذبی

عیش سے کیوں خوش ہوئے کیوں غم سے گھبرایا کیے

معین احسن جذبی

MORE BYمعین احسن جذبی

    عیش سے کیوں خوش ہوئے کیوں غم سے گھبرایا کیے

    زندگی کیا جانے کیا تھی اور کیا سمجھا کیے

    نالۂ بے تاب لب تک آتے آتے رہ گیا

    جانے کیا شرمیلی نظروں سے وہ فرمایا کیے

    عشق کی معصومیوں کا یہ بھی اک انداز تھا

    ہم نگاہ لطف جاناں سے بھی شرمایا کیے

    ناخدا بے خود فضا خاموش ساکت موج آب

    اور ہم ساحل سے تھوڑی دور پر ڈوبا کیے

    وہ ہوائیں وہ گھٹائیں وہ فضا وہ اس کی یاد

    ہم بھی مضراب الم سے ساز دل چھیڑا کیے

    مختصر یہ ہے ہماری داستان زندگی

    اک سکون دل کی خاطر عمر بھر تڑپا کیے

    کاٹ دی یوں ہم نے جذبیؔ راہ منزل کاٹ دی

    گر پڑے ہر گام پر ہر گام پر سنبھلا کیے

    مآخذ :
    • کتاب : Kulliyat-e-Jazbi (Pg. 37)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY