ایسی نہیں ہے بات کہ قد اپنے گھٹ گئے

ساغرؔ اعظمی

ایسی نہیں ہے بات کہ قد اپنے گھٹ گئے

ساغرؔ اعظمی

MORE BYساغرؔ اعظمی

    ایسی نہیں ہے بات کہ قد اپنے گھٹ گئے

    چادر کو اپنی دیکھ کے ہم خود سمٹ گئے

    جب ہاتھ میں قلم تھا تو الفاظ ہی نہ تھے

    اب لفظ مل گئے تو مرے ہاتھ کٹ گئے

    صندل کا میں درخت نہیں تھا تو کس لیے

    جتنے تھے غم کے ناگ مجھی سے لپٹ گئے

    بیٹھے تھے جب تو سارے پرندے تھے ساتھ ساتھ

    اڑتے ہی شاخ سے کئی سمتوں میں بٹ گئے

    اب ہم کو شفقتوں کی گھنی چھاؤں کیا ملے

    جتنے تھے سایہ دار شجر سارے کٹ گئے

    ساغرؔ کسی کو دیکھ کے ہنسنا پڑا مجھے

    دنیا سمجھ رہی ہے مرے دن پلٹ گئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY