ایسی الجھن ہو کبھی ایسی بھی رسوائی ہو

نبیل احمد نبیل

ایسی الجھن ہو کبھی ایسی بھی رسوائی ہو

نبیل احمد نبیل

MORE BYنبیل احمد نبیل

    ایسی الجھن ہو کبھی ایسی بھی رسوائی ہو

    دل کے ہر زخم میں دریاؤں سی گہرائی ہو

    یوں گزرتے ہیں ترے ہجر میں دن رات مرے

    جان پہ جیسے کسی شخص کے بن آئی ہو

    پھول کی مثل سبھی داغ مہکنے لگ جائیں

    کاش ایسا بھی کہیں طرز مسیحائی ہو

    کیسا منظر ہو کہ سر پھوڑتے دیوانوں کے

    سنگ ہو ہاتھ میں اور سامنے ہرجائی ہو

    وہ سخن ور جو سخن ور ہیں حقیقی صاحب

    ایسے لوگوں کا کبھی جشن پذیرائی ہو

    ہے مزاج اپنا الگ اپنی طبیعت ہے جدا

    کیسے اس دور کے لوگوں سے شناسائی ہو

    چائے کا کپ ہو نبیلؔ اور کسی کی یادیں

    رات کا پچھلا پہر عالم تنہائی ہو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY