عجب احوال دیکھا اس زمانے کے امیروں کا

شیخ ظہور الدین حاتم

عجب احوال دیکھا اس زمانے کے امیروں کا

شیخ ظہور الدین حاتم

MORE BYشیخ ظہور الدین حاتم

    عجب احوال دیکھا اس زمانے کے امیروں کا

    نہ ان کو ڈر خدا کا اور نہ ان کو خوف پیروں کا

    مثال مہر و مہ دن رات کھاتے چرخ پھرتے ہیں

    فلک کے ہاتھ سے یہ حال ہے روشن ضمیروں کا

    قفس میں پھینک ہم کو پھر وہیں صیاد جاتا ہے

    خدا حافظ ہے گلشن میں ہمارے ہم صفیروں کا

    مجھے شکوہ نہیں بے رحم کچھ تیرے تغافل سے

    کھلے بندوں پھرے تو حال کیا جانے اسیروں کا

    دل یاقوت ہے تجھ لعل لب کے رشک سے پرخوں

    ترے دنداں کے آگے گھٹ گیا ہے مول ہیروں کا

    کیا ہے اس نشاں انداز نے ترکش تہی مجھ پر

    مری چھاتی سرا ہو جس اوپر تودہ ہے تیروں کا

    ہمیں دیوان خانے سے کسی منعم کے کیا حاتمؔ

    ہے آزادوں کے گر رہنے کو بس تکیہ فقیروں کا

    مأخذ :
    • کتاب : Diwan Zadah (Pg. 114)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY