عجب انقلاب کا دور ہے کہ ہر ایک سمت فشار ہے

غبار بھٹی

عجب انقلاب کا دور ہے کہ ہر ایک سمت فشار ہے

غبار بھٹی

MORE BYغبار بھٹی

    عجب انقلاب کا دور ہے کہ ہر ایک سمت فشار ہے

    نہ کہیں خرد کو سکون ہے نہ کہیں جنوں کو قرار ہے

    کہیں گرم بزم حبیب ہے کہیں سرد محفل یار ہے

    کہیں ابتدائے سرور ہے کہیں انتہائے خمار ہے

    مرا دل ہے سینے میں روشنی اسی روشنی پہ مدار ہے

    میں مسافر رہ عشق ہوں تو یہ شمع راہ گزار ہے

    جسے کہتے ہیں تری انجمن عجب انجمن ہے یہ انجمن

    کوئی اس میں سوختہ حال ہے کوئی اس میں سینہ فگار ہے

    یہ اثر ہے ایک نگاہ کا کہ مزاج طبع بدل دیا

    جو ہمیشہ شکوہ گزار تھا وہ تمہارا شکر گزار ہے

    یہ ضروری کیا ہے کہ ہر بشر رہے نام و کام سے با خبر

    مگر اتنا جان چکے ہیں سب کہ تخلص اس کا غبارؔ ہے

    مآخذ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY