عجب خلوص عجب سادگی سے کرتا ہے

اتل اجنبی

عجب خلوص عجب سادگی سے کرتا ہے

اتل اجنبی

MORE BYاتل اجنبی

    عجب خلوص عجب سادگی سے کرتا ہے

    درخت نیکی بڑی خاموشی سے کرتا ہے

    میں اس کا دوست ہوں اچھا یہی نہیں کافی

    امید اور بھی کچھ دوستی سے کرتا ہے

    جواب دینے کو جی چاہتا نہیں اس کو

    سوال ویسے بڑی عاجزی سے کرتا ہے

    جسے پتہ ہی نہیں شاعری کا فن کیا ہے

    وہ کاروبار یہاں شاعری سے کرتا ہے

    سمندروں سے لڑے تو اسے پتہ بھی چلے

    لڑائی کرتا ہے تو بھی ندی سے کرتا ہے

    نئی نہیں ہے یہ اس کی پرانی عادت ہے

    شکایتیں ہوں کسی کی کسی سے کرتا ہے

    مقابلے کے لیے لوگ اور بھی ہیں مگر

    مقابلہ وہ اتل اجنبیؔ سے کرتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY