عجب خوابوں سے میرا رابطہ رکھا گیا تھا
عجب خوابوں سے میرا رابطہ رکھا گیا تھا
مجھے سوئے ہوؤں میں جاگتا رکھا گیا تھا
وہ کوئی اور گھر تھے جن میں طیب رزق پہنچے
ہمیں تو بس قطاروں میں کھڑا رکھا گیا تھا
معطل کر دیے اعضا سے اعضا کے روابط
یہاں جسموں کو آنکھوں سے جدا رکھا گیا تھا
وہ جس پر صرف پھولوں کی دعائیں پھوٹتی ہیں
اسی مٹی میں وہ دست دعا رکھا گیا تھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.