عجب ستم ہے کہ تیرے حصے سے گھٹ رہا ہوں

محمد اویس  ملک

عجب ستم ہے کہ تیرے حصے سے گھٹ رہا ہوں

محمد اویس ملک

MORE BYمحمد اویس ملک

    عجب ستم ہے کہ تیرے حصے سے گھٹ رہا ہوں

    میں تیرا ہو کر بھی اور لوگوں میں بٹ رہا ہوں

    تو ایک سیل رواں کی صورت گزر رہا ہے

    میں اک جزیرہ ہوں ہر کنارے سے کٹ رہا ہوں

    کھلیں گے اسرار عشق عزلت نشینیوں میں

    میں ایک دنیا سے ایک دل میں سمٹ رہا ہوں

    اگر تجھے عشق تاش کا کھیل لگ رہا ہے

    تو لے میں اپنے تمام پتے الٹ رہا ہوں

    ازل ابد کے سبھی مسائل پہ بات ہوگی

    ابھی تو اے زندگی میں تجھ سے نمٹ رہا ہوں

    ستارے جوں جوں فلک سے معدوم ہو رہے ہیں

    مجھے یہ لگتا ہے میں بھی منظر سے ہٹ رہا ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY