عجیب حال ہے صحرا نشیں ہیں گھر والے

حسن عزیز

عجیب حال ہے صحرا نشیں ہیں گھر والے

حسن عزیز

MORE BYحسن عزیز

    عجیب حال ہے صحرا نشیں ہیں گھر والے

    گھروں میں بیٹھ گئے ہیں ادھر ادھر والے

    نواح جسم نہیں گرچہ ریگزار سے کم

    یہاں بھی خطے کئی ہیں ہرے شجر والے

    اگرچہ شور بہت ہے در دعا پہ مگر

    زبانیں بند کیے بیٹھے ہیں اثر والے

    ہے راہ جاں یوں ہی سنسان ایک مدت سے

    نہ گرد اڑی نہ دکھائی دیے سفر والے

    بغیر آنکھ کے چہروں کا اب چلن ہے یہاں

    وہ دن گئے کہ ہوا کرتے تھے نظر والے

    ابھی میں شہر کو صحرا بنائے دیتا ہوں

    کہ میرے ہاتھ بھی کچھ کم نہیں ہنر والے

    سمٹ کے رہ گئے اب چند ساعتوں میں حسنؔ

    یہی تھے کام کسی وقت عمر بھر والے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY