عجیب انتشار ہے زمیں سے آسمان تک

راغب مرادآبادی

عجیب انتشار ہے زمیں سے آسمان تک

راغب مرادآبادی

MORE BYراغب مرادآبادی

    عجیب انتشار ہے زمیں سے آسمان تک

    غبار ہی غبار ہے زمیں سے آسمان تک

    وبائیں قحط زلزلے لپک رہے ہیں پے بہ پے

    یہ کس کا اقتدار ہے زمیں سے آسمان تک

    بساط خاک بھی تپاں خلا بھی ہے دھواں دھواں

    بس اک عذاب نار ہے زمیں سے آسمان تک

    گرفت پنجۂ فنا میں خستہ حال و خوں چکاں

    حیات مستعار ہے زمیں سے آسمان تک

    فغان و اشک و آہ کا جگر گداز سلسلہ

    بلطف کردگار ہے زمیں سے آسمان تک

    متاع جبر زندگی ہمیں بھی جس نے کی عطا

    اسی کا اختیار ہے زمیں سے آسمان تک

    فراز عرش کے مکیں شکستہ دل ہمیں نہیں

    ہر ایک بے قرار ہے زمیں سے آسمان تک

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY