اجنبی مسافر کو راستہ دکھائے گا

ماہر عبدالحی

اجنبی مسافر کو راستہ دکھائے گا

ماہر عبدالحی

MORE BYماہر عبدالحی

    اجنبی مسافر کو راستہ دکھائے گا

    کون اپنی چوکھٹ پر اب دیا جلائے گا

    جتنی نعمتیں ہوں گی خوب ڈٹ کے کھائے گا

    پھر ہمیں قناعت کا وہ سبق پڑھائے گا

    پہلے آنے والے ہی لوٹ لے گئے سب مال

    بعد میں جو آئے گا خالی ہاتھ جائے گا

    پیٹ ہے اگر خالی پھر کہاں کی خودداری

    بھوک جب ستائے گی خود کو بیچ کھائے گا

    سب کی اپنی راہیں ہیں سب کی اپنی سمتیں ہیں

    کون ایسے عالم میں کارواں بنائے گا

    جس کی عمر گزری ہو ریشمی شبستاں میں

    کیا وہ ہانپتے دن کی داستاں سنائے گا

    آئنہ صفت لوگو یوں رہو نہ پردے میں

    ورنہ کون دنیا کو آئنہ دکھائے گا

    ہم جو مل کے آپس میں روشنی لٹائیں گے

    میں بھی جگمگاؤں گا تو بھی جگمگائے گا

    پھر وہ دے گا خوش خبری ہم کو پار اترنے کی

    پھر ندی میں کاغذ کی ناؤ وہ بہائے گا

    میری جڑ بھی کاٹے گا وقت پر پس پردہ

    وہ مری حمایت میں ہاتھ بھی اٹھائے گا

    محفلیں فقیروں کی بوریے پہ سجتی ہیں

    بارگاہ شاہی کو کون منہ لگائے گا

    افسروں کے خادم سب جٹ گئے صفائی میں

    ماہرؔ اپنی بستی میں آج کون آئے گا

    مآخذ
    • کتاب : Hari Sonahri Khak (Ghazal) (Pg. 181)
    • Author : Mahir Abdul Hayee
    • مطبع : Bazme-e-Urdu,Mau (2008)
    • اشاعت : 2008

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY