اکیلی کیوں رہے برہن یہ بارش نے کہا مجھ سے

دعا علی

اکیلی کیوں رہے برہن یہ بارش نے کہا مجھ سے

دعا علی

MORE BY دعا علی

    اکیلی کیوں رہے برہن یہ بارش نے کہا مجھ سے

    بلا لے پاس تو ساجن یہ بارش نے کہا مجھ سے

    تمہاری سانس مہکے گی کہ تازہ یاد بھی ہوگی

    بھگونے دے مجھے آنگن یہ بارش نے کہا مجھ سے

    کبھی تم ساتھ بھیگے تھے مگر مفہوم آنکھیں اب

    بھگوتی ہیں ترا دامن یہ بارش نے کہا مجھ سے

    سمندر کے کناروں پر چلا تھا ہم قدم لیکن

    بنا وہ شخص کیوں دشمن یہ بارش نے کہا مجھ سے

    ہواؤں نے ترا آنچل اڑا ڈالا ترے سر سے

    بڑی مستی میں ہے ساون یہ بارش نے کہا مجھ سے

    ترے ہونٹوں میں سجتی تھی ترے ساجن کے ہاتھوں سے

    کبھی املی کبھی جامن یہ بارش نے کہا مجھ سے

    کہیں پردیس میں ہوگا دعاؔ ساجن کو بلوا لے

    نہ یوں بے کار کر جیون یہ بارش نے کہا مجھ سے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY