عکس ہے آئینۂ دہر میں صورت میری

جلیل مانک پوری

عکس ہے آئینۂ دہر میں صورت میری

جلیل مانک پوری

MORE BY جلیل مانک پوری

    عکس ہے آئینۂ دہر میں صورت میری

    کچھ حقیقت نہیں اتنی ہے حقیقت میری

    دیکھتا میں اسے کیوں کر کہ نقاب اٹھتے ہی

    بن کے دیوار کھڑی ہو گئی حیرت میری

    روز وہ خواب میں آتے ہیں گلے ملنے کو

    میں جو سوتا ہوں تو جاگ اٹھتی ہے قسمت میری

    سچ ہے احسان کا بھی بوجھ بہت ہوتا ہے

    چار پھولوں سے دبی جاتی ہے تربت میری

    آئینے سے انہیں کچھ انس نہیں بات یہ ہے

    چاہتے ہیں کوئی دیکھا کرے صورت میری

    میں یہ سمجھوں کوئی معشوق مرے ہاتھ آیا

    میرے قابو میں جو آ جائے طبیعت میری

    بوئے گیسو نے شگوفہ یہ نیا چھوڑا ہے

    نکہت گل سے الجھتی ہے طبیعت میری

    ان سے اظہار محبت جو کوئی کرتا ہے

    دور سے اس کو دکھا دیتے ہیں تربت میری

    جاتے جاتے وہ یہی کر گئے تاکید جلیلؔ

    دل میں رکھیے گا حفاظت سے محبت میری

    مآخذ:

    • Book : Kainat-e-Jalil Manakpuri (Pg. 135)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY